اشاعتیں

مئی, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

فرہاد، شیریں کی سہیلی اور گوالے

اتنا شاندار محل دیکھ کر بادشاہ کے منہ سے بے اختیار نکلا  " مانگو کیا مانگتے ہو" فرہاد بولا بادشاہ سلامت شیریں کو لب شیریں بنانا چاہتا ہوں   بادشاہ چاہتا تو زبان کھینچ کے زندان میں ڈلوا دیتا لیکن معاون خصوصی کے ہوتے ہوئے اسے یہ گناہ اپنے سر لینے کی بھلا کیا ضرورت تھی معاون خصوصی اشارہ ملتے ہی آگے بڑھا اور بولا اے فرہاد تیرے ہاتھ میں بلا کی طاقت ہے پتھروں کو کاٹ کے کیسے کیسے روپ میں ڈھال دیتا ہے، شیریں تیرے جیسے فن کے دیوتا کی ہی میراث ہے سلطنت دودھ کی شدید کمی کا شکار ہے دارالحکومت کے ساتھ جو پہاڑ ہے اسکو کاٹ کے دودھ کی ایک نہر نکال لا یہ تیرا شیریں اور اس رعایا کے لیے تحفہ ہو گا شیریں کے ساتھ ساتھ سلطنت بھی تجھے سونپ  دی جائے گی  فرہاد بولا یہ بھی کوئی کاموں میں سے کام ہے آپ شادی کی تیاریاں کریں میں ابھی آیا  فرہاد نے تیشہ سنبھالا اور چل پڑا کچھ دور جاکے جب محبت کا نشہ کچھ ہلکا ہوا تو سوچا دودھ کی نہر نکلے تو نکلے کیسے، پیاس لگی تھی چشمہ دکھائی دیا تو بیٹھ کے پانی پینا شروع کر دیا پانی پیتے پیتے کیا دیکھتاہے کہ رنگ بھی سفید ہو گیا اور ذائقہ بھی دودھ سا حیرت...