اتنا شاندار محل دیکھ کر بادشاہ کے منہ سے بے اختیار نکلا
"مانگو کیا مانگتے ہو"
فرہاد بولا
بادشاہ سلامت شیریں کو لب شیریں بنانا چاہتا ہوں
بادشاہ چاہتا تو زبان کھینچ کے زندان میں ڈلوا دیتا لیکن معاون خصوصی کے ہوتے ہوئے اسے یہ گناہ اپنے سر لینے کی بھلا کیا ضرورت تھی معاون خصوصی اشارہ ملتے ہی آگے بڑھا اور بولا
اے فرہاد تیرے ہاتھ میں بلا کی طاقت ہے پتھروں کو کاٹ کے کیسے کیسے روپ میں ڈھال دیتا ہے، شیریں تیرے جیسے فن کے دیوتا کی ہی میراث ہے سلطنت دودھ کی شدید کمی کا شکار ہے دارالحکومت کے ساتھ جو پہاڑ ہے اسکو کاٹ کے دودھ کی ایک نہر نکال لا یہ تیرا شیریں اور اس رعایا کے لیے تحفہ ہو گا شیریں کے ساتھ ساتھ سلطنت بھی تجھے سونپ دی جائے گی
فرہاد بولا یہ بھی کوئی کاموں میں سے کام ہے آپ شادی کی تیاریاں کریں میں ابھی آیا
فرہاد نے تیشہ سنبھالا اور چل پڑا کچھ دور جاکے جب محبت کا نشہ کچھ ہلکا ہوا تو سوچا دودھ کی نہر نکلے تو نکلے کیسے، پیاس لگی تھی چشمہ دکھائی دیا تو بیٹھ کے پانی پینا شروع کر دیا پانی پیتے پیتے کیا دیکھتاہے کہ رنگ بھی سفید ہو گیا اور ذائقہ بھی دودھ سا حیرت سے سر اٹھا کے دیکھا تو چچا شاہ میر سر پکڑ کے بیٹھا دہائیاں دے رہا تھا ہائے میرا سارا دودھ بہہ گیا اور اسکا ڈول اوپر چشمے کے بہتے پانی میں گرا پڑا تھا فرہاد کبھی چچا شاہ میر کو دیکھتا اور کبھی چشمے کے پانی کو جو اب دودھ کا منظر ہی پیش کر رہا تھا اسکے
دماغ میں فوراً سے ایک شاندار منصوبہ ترتیب پا گیا تھا
فرہاد نے پہاڑ کے دوسری جانب بہتے دریا کے کنارے پہ ایک کولڈ سٹوریج بنایا اور اپنی بستی کے دودھ فروشوں سے دودھ لے لے کے اس میں جمع کرنا شروع کر دیا ساتھ ساتھ اس نے اپنے تیشے سے پہاڑ کاٹ کے پانی کا رخ ایک تنگ سی نہر کی صورت میں دارالحکومت کی طرف موڑنے کے کام کا بھی آغاز کر دیا تھا ساتھ ساتھ پہاڑ کاٹتا رہتا اور دودھ بھی پیتا رہتا
دوسری جانب شیریں جس نے پہلے تو فرہاد کے ساتھ جینے مرنے کے عہدوپیمان باندھے تھے کچھ تو اس دوری نے فرہاد کے نقوش مٹانا شروع کر دیے اور کچھ شیریں کی سب سے اچھی سہیلی نے فرہاد کی غربت کے طعنے مار مار کے بھی اسے فرہاد سے متنفر کر دیا ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ شیریں کا دل ایک اور نوجوان پہ آگیا جو کہ اتفاقاً ہمسایہ ریاست کا شہزادہ بھی نکل آیا شیریں نے اپنے باپ سے صاف کہہ دیا کہ شادی کرے گی تو اسی شہزادے سے
خیر فرہاد بھی اپنی دھن کا پکا نکلا اور پہاڑ کاٹتے کاٹتے بالکل دارالحکومت کے دامن میں پہنچ گیا اور پہاڑ کاٹنے کے آخری مرحلے پہ پہنچتے ہی اس نے دریا کے کنارے موجود دودھ کے ہزاروں لیٹر ذخیرے کا سپل وے بھی کھول دیا تھا اور کچھ ہی دیر میں یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ واقعی دودھ کی نہر ہے کچھ دیر سستانے کے بعد فرہاد نے فنشنگ ٹچ دینے کے لیے تیشہ اٹھایا ہی تھا کہ اسے دور سے شیریں کی سہیلی آتی دکھائی دی اس نے فرہاد کو اطلاع دی کہ شیریں کی کل ساتھ والی سلطنت کے شہزادے کے ساتھ شادی ہے اسے بھول جاؤ یہ سنتے ہی فرہاد نے تیشہ سر سے اوپر اٹھایا شیریں کی سہیلی نے بھاگ کے فرہاد کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی
یہ کام مت کرنا زندگی بس ایک بار ملتی ہے اسکو کسی کے لیے کیوں گنوانا
فرہاد نے نے نظر بھر کے شیریں کی سہیلی کی طرف دیکھا تھا اور یہ نظر ایک بار پھر سچی محبت پہ منتج ہوئی تھی فرہاد نے تیشہ نہر میں پھینکتے ہوئے شیریں کی سہیلی کو پروپوز کر دیا تھا اور شیریں کی سہیلی کی مراد بھی بر آئی تھی اگلے دن کا خاص واقعہ شیریں کی شہزادے کے ساتھ شادی سے زیادہ فرہاد کا شیریں کی سہیلی کے ساتھ بیاہ تھا
شادی سے فارغ ہو کے فرہاد نے اپنے نئے پیشے کا آغاز کیا تھا جسکا آئیڈیا دودھ کی نہر کھودتے اس کے ذہن میں آیا تھا فرہاد نے ایک عربی نسل کا گھوڑا خریدا اسکے بعد وہ روزانہ چار پانچ گھروں سے دودھ جمع کرتا اور اسمیں دریا سے پانی ڈال کے پانچ گنا زیادہ کر کے دارالحکومت میں جا کے بیچتا، ایک صبح جب وہ حسب معمول دارالحکومت دودھ سپلائی کرنے جا رہا تھا فوڈ اتھارٹی والے دارالحکومت کے راستے پہ ناکہ لگا کے کھڑے تھے اور حسب توقع دودھ کے نمونے لینے پہ دودھ غیرمعیاری ثابت ہوا تھا فرہاد کو اسکے گھوڑے سمیت جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور کچھ ہی عرصے بعد بدنامی اور جیل کی تنہائی کے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا
مورخین نے غلط بیانی کرتے ہوئے لکھا کہ فرہاد کی جان تیشے نے لی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرہاد کی جان پیشے نے لی
فرہاد تو چل بسا لیکن اس کا نام اور کام آج بھی زندہ ہے کہتے ہیں آج کے گوالے فرہاد کی نسل میں سے ہی ہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں