ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

ہنوز دلی دور است

نادر شاہ اور محمد شاہ رنگیلا

تاریخ کے اوراق سے

بہت زیادہ دیر پہلے کی بات نہیں ہے ..... یہی لگ بھگ کوئی دو سو سال پیچھے ایران میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا نام تھا اس کا نادر شاہ کہتے ہیں وہ ایران سے اٹھا قندھار فتح کیا پھر کابل پہ چڑھ دوڑا اور پھر درۂ خیبر سے گزرتا ہوا پہنچا نئے پاکستان کے دارالحکومت پشاور.... اور پھر لاہور سے ہوتا ہوا حملہ آور ہوا دہلی پہ تو بھئی وہ اتنی دور سے دہلی کیوں آن پہنچا وجہ تھا محمد شاہ رنگیلا اور اسکی چھچھوری حرکتیں

مغلیہ سطنت کا تیرہواں فرمانرواں, نام تو اسکا روشن اختر نصیر الدین محمد شاہ تھا.....لیکن لوگوں میں مشہور محمد شاہ رنگیلا کے نام سے تھا. وجہ تھی اسکی چھچھوری حرکتیں.....دہلی  ہندوستان کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور ہر بادشاہ نے جیسے ٹھیکہ لیا ہوا تھا اپنی حرکتوں سے اس کے اجڑنے کا بندوبست کرنے کا....... اور رنگیلے شاہ نے بھی اس کارخیر میں خاطر خواہ حصہ لیا......کہنے کو وہ بادشاہ تھا لیکن مزاج ہیجڑوں والا پایا تھا.....وہ بہت شوقین مزاج اور رنگین مزاج واقع ہوا تھا.......دل کرتا تو سارے دربار کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا کے ریمپ پہ کیٹ واک کروا کے فیشن شو کرواتا.....کبھی لے میں آتا تو کپڑے پہنے بغیر دربار میں چلا آتا.....لڑکیوں کی فیک آئیڈیز بنا کے لونڈے پھنسانے میں ملکہ حاصل تھا پھر ان لونڈوں سے ایزی لوڈ کرواتا تھا یا شائد کچھ اور پر کچھ نہ کچھ کرواتا ضرور تھا.....اس نے اپنا فیس بک پیج بھی بنایا ہوا تھا جس پہ وہ اپنی ویڈیوز لگاتا رہتا تھا اور ہر ویڈیو کا آغاز اسکے مخصوص بیانیے سے ہوتا تھا

Assalamu Alaikum I am Muhammad Shah Rangeela

کبھی وہ کسی گانے کے ساتھ کھلواڑ کرتا تو کبھی کسی ویڈیو میں سرپرائز دینے کے نام پہ انتہائی واہیات حرکت کرتا. 

نادر شاہ کہنے کو تو ایران کا بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ ہی کیا جو اپنی بادشاہت کے ثمرات ساری دنیا کے لوگوں تک پھیلانے کے لئے دن رات تگ و دو نہ کرے..... سو اس نے بھی سلطنت ایران کو دور دور تک پھیلانا اپنا فرض منصبی سمجھا تاکہ تاریخ میں وہ ایک عظیم فاتح کے نام سے جانا جائے.....ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ کابل کا معرکہ سر کر کے فارغ ہوا تھا......اس نے موبائل نکال کے ڈیٹا آن کیا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی کہ 4جی کے پورے سگنل آ رہے تھے چلو فیس بک ہی چیک کرتے ہیں اس نے سوچا

اس نے سب سے پہلے 
چیکڈ ان کابل
کا سٹیٹس اپڈیٹ کیا

ابھی اس نے پوسٹ کی ہی تھی کہ رنگیلے شاہ کا کمنٹ آیا
ہنوز دلی دور است 😜😜...... نادر شاہ کا خون کھولنے لگا تھا اس نے جذبۂ خیرسگالی کے تحت رنگیلے کو اپنی فرینڈلسٹ میں رکھا ہوا تھا لیکن رنگیلا ہمیشہ اس کا غلط فائدہ اٹھاتا تھا اور ایسی فضول حرکتیں کرتا رہتا تھا اسے سب سے زیادہ غصہ اسوقت آتا جب وہ اسے اپنی ویڈیوز میں ٹیگ کرتا تھا...... ابھی نادر شاہ کا غصہ پوری طرح ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ اسکی بیوی غصے سے جلی بھنی کمرے میں داخل ہوئی......یہ دیکھیں رنگیلے کی حرکت.... اسکی بیوی نے اپنا موبائل اسکے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا....نادر شاہ نے دیکھا تو رنگیلے نے اسکو 
میسیج کیا ہوا تھا

Hi!  I have a very sweet heart, but no one wants to be my friend, i feel very lonely, will you be my friend i will keep you happy. 

نادر شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا پہلے تو اسکا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا دہلی کی طرف کوچ کرنے کا..... لیکن اب اس نے قدرے سنجیدگی سے اس پہلو پہ سوچنا شروع کر دیا تھا..... وہ شائد ابھی اور سوچتا لیکن محمد شاہ رنگیلا نے ایک ہی دن میں تیسری اور فیصلہ کن غلطی کر کے گویا اپنے تابوت میں خود ہی آخری کیل ٹھونک لیا تھا نادر شاہ سرخ آنکھوں کے ساتھ موبائل کو گھور رہا تھا...... رنگیلے شاہ کی سرکوبی ضروری ہو چکی تھی

محمد شاہ رنگیلا سرخ رنگ کی سکرٹ پہنے چٹیاں کلائیاں پہ ڈانس کر رہا تھا..... اور اسکا وزیر خاص اسکی ویڈیو بنا رہا تھا جو اس نے فیس بک پہ اپلوڈ کرنی تھی اسی وقت ایک ہرکارہ دوڑتا ہوا آیا اورآداب بجا لاتے ہوئے بولا
"ظل الٰہی نادر شاہ کرنال کے مقام پہ خیمہ زن ہے"

یہ سنتے ہی رنگیلا کے سارے سٹیپس خلط ملط ہو گئے تھے.....اس نے سوچا ابھی ہفتہ دس دن پہلے ہی تو نادر شاہ کابل میں تھا اتنی جلدی کیسے یہاں پہنچ گیا..... 

خیر محمد شاہ رنگیلا نے اپنی فوج تو نادر شاہ کے مقابلے پہ لا کھڑی کی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ محمد شاہ رنگیلا نے خود اپنی حرکتوں سے ہی اپنی فوج کا "وقار" مجروح کیا تھا فوج ویسے ہی اس سے اکتائی ہوئی تھی انہوں نے لڑنے کا بس تکلف ہی کیا اور جنگ نادر شاہ کی فتح پہ منتج ہوئی 

نادر شاہ دہلی فتح کر کے واپس ہوا تو بہت سے ہیرے جوہرات ساتھ لیجانا نہیں بھولا تھا.... اور انہی ہیروں میں کوہ نور ہیرہ بھی تھا..... واپسی کے راستے پہ نادر شاہ کی بیوی نے اس سے پوچھا کہ میسیج والے معاملے کے بعد بھی آپ دہلی پہ یلغار کرنے کا ابھی سوچ ہی رہے تھے لیکن بعد میں ایسا کیا ہوا کہ آپ نے سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا نادر شاہ اسے ٹالتا ہی رہا لیکن وہ نہیں ٹلی..... پھر نادر شاہ نے اس سے وعدہ لیا کہ وہ خلع لینے کے لئے عدالت کا رخ نہیں کرے گی....... جب نادر شاہ کی بیوی نے اسکی یہ شرط قبول کر لی تو نادر شاہ نے اپنا موبائل اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا یہ ویڈیو بھیجی تھی اس نےاور پھر ویڈیو پلے کر دی.....ساتھ ہی ماحول میں ڈھنچک پوجا کی مدھر آواز گونجنے لگی تھی

سیلفی میں نے لے لی آج
سر پہ میرے رہتا تاج

 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ڈئیر ڈائری!

لیلیٰ مجنوں