ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

لیلیٰ مجنوں

تاریخ کے اوراق سے


لیلیٰ مجنوں
آخری حصہ

دوسری طرف لیلیٰ کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اتنا قبول صورت لڑکا اس کے عشق میں گرفتار ہو گیا ہے۔ گفتگو موسم کےحال سے شروع ہوئی اور گھر میں پکے ٹینڈوں سے ہوتی ہوئی ایک ساتھ جینے مرنے کی قسموں اور عہد و پیماں تک جا پہنچی۔ مجنوں کی آنکھوں پہ پڑی دھند آہستہ آہستہ چھٹ رہی تھی اور لیلیٰ کا سراپا سنی لیونی سے بپاشا باسو میں تبدیل ہوتا نظر آرہا تھا۔ لیکن اسے یہ بھی قابل قبول تھا کیونکہ وہ خود بھی کوئی بریڈ پٹ نہیں تھا اور دوسری بات یہ کہ اسے "لو ایٹ فرسٹ سائٹ" ہوا تھا۔ دوبارہ جلد ملنے کا وعدہ کر کے دونوں نے اداس دل کے ساتھ اپنی اپنی راہ لی
لیلیٰ تو جیسے ہواؤں میں اڑ رہی تھی
آج لگتا ہے میں ہواؤں میں ہوں
آج اتنی خوشی ملی ہے
ویسے تو مجنوں نے اسے اسی شکل و صورت کے ساتھ قبول کر لیا تھا لیکن وہ کیا ہے کہ عشق میں پڑنے کے بعد انسان کو ہر وقت سجنے سنورنے کا شوق چڑھا رہتا ہے اور لیلیٰ کے دل میں بھی گورے ہونے کا شوق جیسے پھر سے جوان ہو گیا تھا اور اس نے اس مقصد کے لئے نئے ٹوٹکے آزمانا شروع کر دیے تھے
مجنوں نے اس دن واپس آ کر اماں کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ بلقیس سے کسی صورت شادی نہیں کرے گا بلکہ وہ لیلیٰ کو پسند کرتا ہے مجنوں کی ماں تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی اس نے اسی وقت سعودیہ میں موجود مجنوں کے باپ کو فون ملایا اور بتایا کہ "منڈا ہتھوں نکل گیا جے"  بلقیس کا تو جیسے دل ہی ٹوٹ گیا تھا لیکن اس بیچاری نے خوشدلی سے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ مجنوں اگر نہیں شادی کرنا چاہتا تو اسکی اپنی مرضی ہے یہی بات اس نے اپنی اماں کو جیسے تیسے سمجھائی کہ غصہ مت کریے بلکہ حقیقت کو تسلیم کر لیے۔بس پھر اگلے دن خالہ اور بلقیس سویرے کی ٹرین پکڑ کر واپس ہو لئے۔مجنوں نےلیلیٰ کو بھی یہ خوشخبری سنا دی کہ اس نے اماں ابا کو منا لیا ہے۔اب انہیں ایک ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی

لیلٰی کوئی آدھے گھنٹے سے آئینے کے سامنے کھڑی تھی اسے خود بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہ خود ہی ہے پتہ نہیں یہ "فئیر اینڈ لولی ون ویک چیلینج کا کمال ہے یا اس پہ عشق کا روپ چڑھ گیا تھا مجنوں کو بھی اسکی بھیجی فوٹو دیکھ کے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ واقعی میں لیلیٰ ہےدونوں سارا سارا دن چیٹنگ کرتے اور اپنی فیوچر لائف کی پلاننگ کرتے

مجنوں زیادہ نہیں تو کم از کم گھنٹے سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا موبائیل کی سکرین کو  تجسس بھرے انداز میں گھورے جا رہا تھا نہ تو اس نے سکرین آف ہونے دی اور نہ سکرول کر رہا تھا آنکھیں جھپکنا تو جیسے وہ بھول ہی گیا تھا پوسٹ میں ایک لڑکی کی تصویر تھی  جو دوسری طرف منہ کئے بیٹھی تھی اور نیچے لکھا تھا کمنٹ میں 7 لکھو لڑکی مڑ کے دیکھے گی وہ ایک گھنٹے سے  کمنٹ میں 7 لکھ کے بیٹھا تھا لیکن لڑکی ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی اس نےمایوس ہو فیس بک آف کی ہی تھی کہ لیلیٰ کاوٹس ایپ میسیج آیا
آئی وانٹ ٹو ٹاک
مجنوں نے بہت سوچا کہ اس سے کیا غلطی ہوئی ہو گی لیکن باوجود کوشش کے اسے اپنی کردہ یا ناکردہ خطا یاد نہیں آرہی تھی

لیلیٰ کی کینیڈا والی پھوپھو اپنے سب سے بڑے بیٹے اسلم کے ساتھ آج صبح ہی پہنچی تھی۔ اسلم نے لیلیٰ کو دیکھا تو وہ حیران ہی رہ گیا تین سال پہلے جب آخری بار ملے تھے تو لیلیٰ پاکستانیوں کے بخت کی طرح کالی تھی لیکن اب تو اس کی نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی اسکے سانولے مکھڑے سے۔اس نے رات میں ہی اپنی ماں سے دل کا حال گوش گزار کر دیا اور پھوپھو کو تو جیسے اسی کا انتظار تھا اس نے صبح اٹھتے ہی اپنی بھتیجی کا ہاتھ اسلم کے لئے مانگ لیا تھا۔لیلیٰ کو پتہ چلا تو اس نےماں کو دبے دبے لفظوں میں مجنوں کے بارے میں بتا دیا۔"بیٹی تمہیں پتہ بھی ہے ہم راجپوت برادری سے باہر رشتہ نہیں کرتے کیسے بیاہ دیں تمہیں آرائیوں میں اور ویسے بھی اسلم بہت سمجھدار اور ذمہ دار بچہ ہے تمہیں بہت خوش رکھے گا"لیلیٰ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس مشکل سے کیسے نکلے۔ کمرے میں جا کے اس نے ذہن بٹانے کی خاطر فیس بک اوپن کی تو سامنے ہی ایکٹویٹی اپڈیٹ میں اسے لکھا نظرآیا
پرنس مجنوں لائکس "رو عمران رو"
پٹواری۔۔۔۔۔؟؟ وہ زیر لب بڑبڑائی تھی۔ لیلیٰ پی ٹی آئی کی ٹائیگریس اور نواز شریف کی بہت بڑی مخالف تھی 2014 کے دھرنے میں وہ پیش پیش رہی تھی۔وہ کسی پٹواری سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور اگر مجنوں واقعی میں پٹواری تھا تو اسکےلئے اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا قدرے آسان ہو گیا تھا اس نے اسی وقت مجنوں کو میسیج کر کے رات کو کال کرنے کا کہا

مجنوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب کال کنیکٹ ہوتے ہی لیلیٰ نے بغیر سلام دعا کے پہلا سوال ہی یہ پوچھا کہ یا وہ نواز شریف کا سپورٹر ہےمجنوں نے کہا ہاں وہ پکا ن لیگی ہے۔ 
"تمہیں مجھ سے شادی کرنے کے لئے نواز شریف کی سپورٹ چھوڑنی ہوگی" لیلیٰ نے قطعی لہجے میں کہا تھا۔
 "اس چیز سے کیا فرق پڑتا ہے لیلیٰ میں تم سے پیار کرتا ہوں" مجنوں نےاسے سمجھانے کی کوشش کی
"ہاں تو پیار کرتے ہو تو میری بات  مان کے پی ٹی آئی جوائن کرنی پڑے گی" لیلیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا
مجنوں نواز شریف کی سپورٹ کسی صورت بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ کٹر ن لیگی تھا اس کے دوست اکثر اسے "مج نون  لیگ" کے نام  سے چھیڑتے ہوتے تھے
"مجھ سے نہیں ہو گا یہ" مجنوں نے دھیمے لہجے میں کہا تھا 
"اوکے جیسے تمہاری مرضی" لیلیٰ نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی بیچارہ مجنوں ہیلو ہیلو ہی کرتا رہ گیا تھا۔ مجنوں ساری رات بات کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن لیلیٰ نے کال نہیں اٹھائی ایسے ہی جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی
صبح اٹھ کے اس نے اپنا موبائل چیک کیا تو لیلیٰ کا وٹس ایپ میسیج آیا ہوا تھا
صبح سویرے اٹھ کے میں نے یہ سب کر لیا
میرے سئیاں جی کے ساتھ میں نے بریک اپ کر لیا

اس نے لیلیٰ کو ریپلائی کیا کہ وہ اس سے بہت محبت کرتا ہے لیکن لیلیٰ کا ریپلائی تو کیا آتا نہ تو میسیج ڈیلیور ہوا اور نہ رسیونگ کا نیلا نشان ہی نظر آیا آخر اس پہ انکشاف ہوا کہ لیلیٰ نے اسے بلاک کر دیا ہے اور یہی صورتحال فیس بک پہ بھی تھی۔ لوگوں کی محبت ظالم سماج کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اور مجنوں کی محبت ظالم نواز کی نذر ہو چکی تھی

مجنوں کا دل کرچی کرچی ہو چکا تھا اس نے اریجیت کے سارے گانے سن چھوڑے لیکن دل کہیں لگتا ہی نہیں تھا۔ اس نے فیس بک پہ "فیلنگ ہارٹ بروکن" کی پوسٹ کی تو فوراً ہی بلقیس کی طرف سے 😢 کا ری ایکشن آیا جس سے اسکے غم میں مزید اضافہ ہو گیا وہ زندگی سے مکمل اکتا چکا تھا اور اس اکتاہٹ اور بیزاری کا اسے ایک ہی حل نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خودکشی...........اور یوں  لیلیٰ سے بریک اپ ہونے کے ایک ہفتے بعد اس نے  بلقیس سے شادی کر لی اور پھر دونوں غمی دکھی رہنے لگے

ختم شد


تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہنوز دلی دور است

ڈئیر ڈائری!