اشاعتیں

مئی, 2022 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

حرامدہ

اس کا نام جمال تھا اور وہ تھا بھی گورا چٹا یہ  ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں آنکھیں... اور اگر نہ بھی ہوتا تو ہر ماں کو جیسے اپنی اولاد حسین لگتی ہے اس کی ماں کے لیے بھی اس کا بیٹا جمال ہی ہوتا جس نے اس کا نام رکھا تھا... لیکن اسے ہر کوئی حرامدہ کہہ کے بلاتا تھا... او حرامدے کدھر جا ریاں، او حرامدیا ذرا نٹھ کے سغٹاں (سگریٹ) تے پھڑ لیا.... او حرامدیا مجھاں نوں پٹھے پا دے.....اسے اس کے اصل نام سے بس اس کی  ماں بلاتی تھی اور جب وہ مری تو اس کا اصل نام بھی اسکے ساتھ ہی مر گیا.... اس کی ماں گاؤں کے چودھری کے گھر کام کاج کر کے اپنا اور اپنے جمال کا پیٹ پالتی تھی.... جمال جب کبھی اپنی ماں سے پوچھتا کہ اس کو گاؤں والے اس کے اصل نام کی بجائے گالی دے کے کیوں بلاتے ہیں تو اس کی ماں بات ٹال جاتی... اس کی ماں نے اسے یہی بتایا ہوا تھا کہ اس کا باپ اس کے پیدا ہونے کے کچھ ہی دن بعد مر گیا تھا... پھر ایک دن اس کو اس کے سوال کا جواب مل گیا تھا.... سردیوں کی ایک شام اس کی ماں کو بخار نے آ لیا تھا اور رات ہونے تک اس پہ غشی کے دورے پڑنا شروع ہو گئے تھے... ماں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اس راز سے پردہ ا...