حرامدہ
اس کا نام جمال تھا اور وہ تھا بھی گورا چٹا یہ ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں آنکھیں... اور اگر نہ بھی ہوتا تو ہر ماں کو جیسے اپنی اولاد حسین لگتی ہے اس کی ماں کے لیے بھی اس کا بیٹا جمال ہی ہوتا جس نے اس کا نام رکھا تھا... لیکن اسے ہر کوئی حرامدہ کہہ کے بلاتا تھا... او حرامدے کدھر جا ریاں، او حرامدیا ذرا نٹھ کے سغٹاں (سگریٹ) تے پھڑ لیا.... او حرامدیا مجھاں نوں پٹھے پا دے.....اسے اس کے اصل نام سے بس اس کی ماں بلاتی تھی اور جب وہ مری تو اس کا اصل نام بھی اسکے ساتھ ہی مر گیا.... اس کی ماں گاؤں کے چودھری کے گھر کام کاج کر کے اپنا اور اپنے جمال کا پیٹ پالتی تھی.... جمال جب کبھی اپنی ماں سے پوچھتا کہ اس کو گاؤں والے اس کے اصل نام کی بجائے گالی دے کے کیوں بلاتے ہیں تو اس کی ماں بات ٹال جاتی... اس کی ماں نے اسے یہی بتایا ہوا تھا کہ اس کا باپ اس کے پیدا ہونے کے کچھ ہی دن بعد مر گیا تھا... پھر ایک دن اس کو اس کے سوال کا جواب مل گیا تھا.... سردیوں کی ایک شام اس کی ماں کو بخار نے آ لیا تھا اور رات ہونے تک اس پہ غشی کے دورے پڑنا شروع ہو گئے تھے... ماں نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اس راز سے پردہ اٹھا دیا تھا.... وہ بن بیاہی ماں بن گئی تھی جب ایک دن چودھری نے شراب کے نشے میں دھت ہو کے اس کی حرمت پامال کر دی تھی.... وہ گاؤں کے چودھری کے خلاف اپنی فریاد لے کے جاتی تو کس کے پاس جاتی.... پھر جب نو مہینے بعد وہ دنیا میں آیا تھا تو چودھری نے ہی اسے حرامدے کا خطاب دیا تھا....یہ راز افشاں کرنے کے کم و بیش ایک گھنٹے بعد اس کی بن بیاہی ماں چل بسی تھی
**
ماں کے گزرنے کے چند روز بعد وہ اچانک گاؤں سے غائب ہو گیا تھا... اس کا گاؤں سے غائب ہونا کچھ دن کسی نہ کسی شکل میں زیر بحث رہا... پھر لوگ اسے بھول گئے.... گاؤں اپنی پرانی ڈگر پہ ہی چل رہا تھا اس کو کسی کے چلے جانے سے کیا فرق پڑنا تھا وہ بھی ایک حرامدے کے جانے سے
**
چودھری کے بیٹے کی شادی کو چار سال ہو چکے تھے لیکن وہ ابھی تک دادا نہیں بن سکا تھا، ملک کا شاید ہی کوئی ڈاکٹر، حکیم اور پیر ہو جس کے پاس اس کے بیٹے نے چکر نہ لگایا ہو، لیکن اس کی مراد تھی کہ پوری ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی.... چودھری کو اپنی نسلوں سے چلی آ رہی گدی کی فکر کھائے جا رہی تھی.... چودھری سے پہلے اس کا باپ اس گاؤں کا بڑا تھا اور اس سے پہلے اس کا باپ.... اب چودھری کو اپنے بیٹے کی شکل میں جانشین تو مل چکا تھا لیکن اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ کیا انکی نسلوں سے چلی آ رہی چودھراہٹ کا خاتمہ اس کے بیٹے کے ساتھ ہی ہو جائے گا... طاقت اور اقتدار کا بھی کیا ہی نشہ ہے کہ موت کے بعد اپنی آخرت کی بجائے اسے یہ فکر تھی کہ بعد میں اسکی خاندانی چودھراہٹ کا کیا بنے گا
**
چودھری کو جب سے پتہ چلا تھا کہ اس کی بہو پیٹ سے ہے وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا.... اس نے دیگیں چڑھائی تھیں اور صرف اپنے گاؤں ہی نہیں اردگرد کے دس گاؤں کے لوگوں میں کھانا بانٹا تھا.... اس کے بیٹے نے اسے بتایا تھا کہ یہ شجاع آباد کے اس گدی نشین پیر کی کرامت ہے جس کے پاس وہ اب جا رہے تھے....اور یہ کہ پیر صاحب نے خوشخبری دی تھی کہ بیٹا ہی ہو گا.... چودھری نے ارادہ کیا کہ وہ بھی پیر صاحب کے پاس حاضری دے لیکن کچھ مصروفیت کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا.... دوسری طرف زچگی کا وقت قریب آتا جا رہا تھا.... اور اس کے ساتھ ہی چودھری کی اس فکر میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ اگر لڑکی ہوئی تو.... لیکن پھر وہ اس خوف سے کانپ اٹھا کہ کہیں وہ انجانے میں پیر صاحب کی توہین نہ کر رہا ہو... کانپتے وجود کے ساتھ اس نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیا تھا
**
جب دائی نے کمرے سے باہر نکل کے اسے کہا تھا کہ مبارک ہو لڑکا ہے اس نے اسی وقت اپنے نوکروں کو دیگیں چڑھانے کا حکم دیا تھا.... چودھری نے اعلان کیا تھا کہ تین دن پورے گاؤں میں کسی گھر میں کھانا نہیں بنے گا اور سب کا کھانا اسی کے گھر سے جائے گا.... چودھری نے اگلے ہی دن پوتے کو لے کر پیر صاحب کے در پہ حاضری دینے اور دس دیگوں کا چڑھاوا چڑھانے کا بھی فیصلہ کیا تھا.... نذرانہ اس کے علاوہ تھا جو پیر صاحب کے قدموں میں ڈھیر کیا جانا تھا.... کچھ ہی دیر کے بعد دائی دوبارہ کمرے سے باہر آئی تھی لیکن اب اس کے ہاتھوں میں لحاف میں لپٹا چودھری کا پوتا بھی تھا... چودھری نے پیار کرنے کے لیے لحاف اس کے منہ سے ہٹایا تھا اور ساتھ ہی اس کو ایک جھٹکا لگا تھا.... اس کے پوتے کی پیشانی پہ بالکل وسط میں کشمش کے دانے کے برابر سرخ نشان تھا.... چودھری کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ اس کو اذیت پہنچانے کے لیے قدرت کی طرف سے کوئی نشانی ہے یا پھر یا پھر؟؟ .... اس سے آگے سوچنے کی اس میں ہمت نہیں تھی
**
چودھری اپنے بیٹے، بہو اور پوتے کے ساتھ شجاع آباد کی طرف رواں دواں تھا.... وہ کل سے بالکل خاموش تھا.... بیٹا اور بہو پوچھتے تھے تو وہ ٹال جاتا تھا...اس کو پوتا پکڑاتے بھی تو تھوڑی دیر بعد کسی اور کے سپرد کر دیتا آخر کار ان کا سفر ختم ہوا تھا اور وہ ایک مزار کے سامنے رکے تھے مزار کے احاطے کی چاد دیواری نو، دس فٹ رہی ہو گی، تازہ تازہ سفیدی کی گئی تھی داخلی دروازے کے دائیں بائیں سرخ اور کالے جھنڈے لگے ہوئے تھے احاطے میں ایک بڑا سا برگد کا درخت تھا جس پہ رنگ برنگے دھاگے بندھے ہوئے تھے.... چودھری ڈرتے ڈرتے مزار کے اندر ننگے پاؤں داخل ہوا تھا... احاطے سے گزر کر وہ پیر صاحب کے حجرے میں داخل ہوئے تھے.... پیر صاحب حجرے کے اندر مریدوں میں گھرے بیٹھے تھے.... سر نیچے جھکا ہوا تھا.... سر پہ کالے رنگ کا عمامہ تھا... لیکن اسمیں سے بھی زلفوں کی لٹیں نکلی نظر آ رہی تھیں...... چودھری چور نظروں سے پیر صاحب کو دیکھ رہا تھا..... مرید ایک ایک کر کے اٹھتے جا رہے تھے.... پھر کرتے کرتے حجرے میں پیر صاحب، ان کے دو خادم اور چودھری کا خاندان ہی رہ گیا.... چودھری کا دل کر رہا تھا کہ یہیں سے واپس ہو لے..... لیکن جب اس کا بیٹا جا کر پیر صاحب کے قریب دو زانو ہو کے بیٹھ گیا تو اس کے پاس بھی اس کی تقلید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا.... وہ اٹھا اور پیر صاحب کے سامنے دو زانو ہو کے بیٹھ گیا.... اسکی نظریں جھکی ہوئی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ ایسے ہی بیٹھا رہے اور پھر نذرانہ دے کے چل دے بس پیر صاحب کا چہرہ نہ دیکھنا پڑے.....خاموشی کو چودھری کے بیٹے نے ہی توڑا تھا جب اس نے پیر صاحب کے پاؤں چھو کر اپنا بیٹا ان کی جھولی میں ڈالا اور اس کو ان کی کرامت قرار دیا تھا.... پیر صاحب نے اسے مشیت ایزدی قرار دے کے خود کو بس ایک وسیلہ قرار دیا تھا.... پھر جب چودھری کے بیٹے نے اپنے باپ کا تعارف کروایا تھاتو چودھری کے پاس سر اٹھانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا....اس نے سر اٹھایا تھا پیر صاحب اور چودھری کی نظریں چار ہوئی تھیں......چودھری نے دیکھا پیر صاحب کی داڑھی بڑی نفاست سے تراشی ہوئی تھی، جو ان کے کے گورے چٹے چہرے پہ بہت جچ رہی تھی، یہ بڑی بڑی آنکھیں اور ستواں ناک..... پیر صاحب نے چودھری صاحب کو بہت غور سے دیکھا تھا..... پھر چہرے پہ ایک بہت ہی سرور بھری مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا تھا چودھری صاحب آپ سے مل کے بہت خوشی ہوئی... یہ کہہ کر پیر صاحب نے اپنا عمامہ اتار دیا تھا..... چودھری نے دیکھا اس کی پیشانی پہ عین وسط میں بڑے کشمش کے دانے کے برابر ایک سرخ نشان تھا.... چودھری کو اگر پہلے کوئی شک تھا بھی تو وہ اب ختم ہو چکا تھا اس کے منہ سے بے اختیار نکلا..... حرامدہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں