ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

بھول کیوں نہیں بھولتی

مفتی صاحب مسجد کے ہال کی لائٹس بند کر کے باہر برآمدے میں آئے تو سسکیوں کی آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا برآمدے اور صحن کی لائٹس پہلے ہی بند تھیں تھوڑا غور کیا تو صحن میں ایک سایہ سا دکھائی دیا تھا صحن کی لائٹ جلا کے مفتی صاحب نے صحن کا رخ کیا تھا.... وہ کوئی نوجوان ہی لگ رہا تھا جو اپنا چہرہ بازوؤں اور گھٹنوں میں دیے رو رہا تھا جسم پہ ہلکی سے لرزش طاری تھی اور ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی مفتی صاحب پنجوں کے بل اس نوجوان کے بالکل سامنے بیٹھ گئے تھے... کچھ دیر سوچتے رہے پھر اسکے کاندھے پہ نرمی سے ہاتھ رکھا تھا نوجوان نے چونک کے سر اٹھایا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور آنکھیں ایسی سرخ کہ دیکھ کر وحشت ہوتی تھی 
"ارے کیا ہوا جوان اس عمر میں اتنے آنسو کہاں سے لے آئے"
 مفتی صاحب نے بہت شفقت سے پوچھا تھا نوجوان خاموشی سے مفتی صاحب کا چہرہ تکتا رہا تھا 
"مجھے بتاؤ بیٹا شاید مجھے بتانے سے دل کا کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے" مفتی صاحب نے کندھا تھپتھپاتے ہوئے نرمی سے کہا تھا نوجوان کچھ دیر خاموشی سے برآمدے کی دیوار پہ لگی گھڑی کو دیکھتا رہا چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ تذبذب میں ہے کہوں یا نہ کہوں
 "مفتی صاحب ایک سوال پوچھوں آپ سے
وہ کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوا تھا 
"پوچھو، جواب آتا ہوا تو ضرور بتاؤں گا"
 مفتی صاحب نے متانت سے مسکراتے ہوئے کہا تھا 
 "مفتی صاحب انسان نے کوئی فرض ادا کرنا ہو لیکن وہ بھول جائے اسکو یاد نہ رہے اور وہ فرض ادا نہ کر سکے تو کیا سکا بھی گناہ ملتا ہے؟ کیا اسکی بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟ " 
اس نے بھیگے لہجے سے پوچھا تھا
 "ارے بیٹا بھولے کا کیا گناہ اور اسکی کیا سزا بھلا، نماز پڑھنا بھی بھول جائے تو یاد آنے پہ پڑھ لو بھولے سے کچھ کھا لیا تو روزے پہ فرق نہیں پڑتا" 
مفتی صاحب نے تسلی دینے والے لہجے میں کہا تھا 
" تو پھر اتنے سالوں سے میرے دل پہ پڑا اتنا بڑا بوجھ کیوں نہیں ہٹتا میری پشیمانی کیوں نہیں مٹتی مجھے کیوں اتنی بےسکونی ہے
بولتے بولتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی اس نے ایک بار پھر اپنا چہرہ بازوؤں میں چھپا لیا تھا
 ارے بیٹا کچھ بتاؤ بھی کہ کیا ہوا ہے کونسا بوجھ دل میں لیے بیٹھے ہو اب تک شاید میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں، 
مفتی صاحب نے نوجوان کو سینے سے لگاتے ہوئے کہا تھا، لیکن وہ تھا کہ روئے ہی چلا جا رہا تھا مفتی صاحب بے بسی کی تصویر بنے بس اسکے سر پہ ہاتھ پھیرے جا رہے تھے 
"نہیں آپ نہیں سمجھ سکتے" 
 یہ کہتے ہوئے نوجوان ان کے بازوؤں سے خود کو آزاد کرواتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا اور روتے روتے مسجد کے بیرونی دروازے سے باہر نکل گیا تھا مفتی صاحب حیرت اور دکھ سے اسے دیکھتے ہی رہ گئے تھے

 گھر پہنچ کے اس نے اپنی ڈائری کھولی تھی جو بالکل خالی تھی الفاظ اندر کے احساسات کو کبھی بیان کر ہی نہیں سکتے اس نے ڈائری کے کورے اوراق کو دیکھتے ہوئے سوچا تھا پندرہ بیس منٹ وہ ایسے ہی خالی آنکھوں سے ڈائری کے پہلے خالی ورق کو گھورتا رہا تھا پھر اس نے کانپتے ہاتھوں سے لکھا تھا

 کاش چاند رات کو جب آپ نے جوتا پالش کرنے کا کہا تھا میں نے اسی وقت اٹھ کے جوتا پالش کر دیا ہوتا، کاش میں نہ بھولتا، کاش آپ نے خود جوتا پالش نہ کیا ہوتا، کاش عید کی صبح مجھے اٹھا کے کہہ دیا ہوتا جوتا پالش کرنے کا، کاش آپ اگلی عید پہ جوتا پالش کرنے کا کہنے کے لیے زندہ ہوتے.... 

کاش ابا جان

 کمرہ سسکیوں کی آواز سے بھر گیا تھا

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہنوز دلی دور است

ڈئیر ڈائری!

لیلیٰ مجنوں