ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

لیلیٰ مجنوں

تاریخ کے اوراق سے

 لیلیٰ مجنوں حصہ اول 

 مجنوں آج بہت خوش تھا آخر بات تھی بھی خوشی کی اسکی پتوکی والی خالہ صغراں آرہی تھی اور خالہ نے وعدہ کیا تھا کہ اس بار اس کے لئے سمارٹ فون ضرور لائے گی. مجنوں نے سوچا اس کے دن بھی بدلنے والے ہیں اسے عجیب سا احساس کمتری ہوتا تھا اپنے نوکیا 3310 کو دیکھ کر جب کہ اس کے سبھی دوستوں کے پاس اینڈرائیڈ یا آئی فون تھے وہ سارا دن فیس بک اور وٹس ایپ استعمال کرتے اور مجنوں ان کے پاس بیٹھا سانپ چھوٹا بڑا کرتا رہتا تھا وہ اپنی گرل فرینڈز سے چیٹنگ کرتے ڈیلیٹ کرنے کے وعدے پہ ان کی فوٹوز منگواتے اور مجنوں اپنے سنگل ہونے کا غصہ سانپ پہ نکالتا لیکن اسکی بیچارگی کے یہ دن ختم ہونے والے تھے خالہ شام 3 بجے کی ٹرین سے آ رہی تھی 

مجنوں نے دو گھنٹے پہلے ہی تیاری شروع کر دی اس نے اپنی 125 کو اچھی طرح کپڑا مار کے چمکایا اور نہا دھو کے کرنڈی کا سوٹ پہن لیا اسی وقت مجنوں کی ماں کی آواز آئی
 "وے مر جانیا دہی تیرے پیو نے لیا کے دینی سی؟؟"
 ایک تو یہ دہی نے دماغ کی دہی بنا دی ہے مجنوں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور دہی لینے چل پڑا دہی لے کے آتے ہوئے اسکی نظر سبزی کی دکان پہ پڑے دھنئے پہ پڑی اس نے سوچا ماں کہنا بھول گئی ہو گی دھنیا بھی لئے چلتا ہوں اس نے گھر پہنچ کے جب دہی کے ساتھ دھنیا بھی ماں کے سامنے رکھا تو ماں نے اسکا زندگی میں دوسری بار منہ چوما کہ میرا بیٹا تو بڑا سمجھدار ہو گیا ہے پہلی بار اس وقت چوما تھا جب وہ دنیا میں آیا تھا مجنوں نے ٹائم دیکھا تو اڑھائی ہو رہے تھے اس نے جلدی سے 125 کو کک ماری اور ریلوے سٹیشن پہنچ گیا 

تین بجتے  ہی ٹرین کے ہارن کی آواز سنائی دی اور ساتھ ہی مجنوں کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ٹرین رکنے کے بعد وہ ہر ڈبے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ کب خالہ برآمد ہو آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور خالہ کا پرنور چہرہ نظر آیا مجنوں تیزی سے خالہ کی طرف لپکا خالہ کو ہاتھ دے کے نیچے اتارا ہی تھا کہ طفیل مستری نے اس کے کاندھے پہ اپنا بھاری ہاتھ پورے زور سے مارا مجنوں زیرلب گالی دیتے پیچھے کو مڑا ہی تھا کہ اسکی نظر ایک فردوس عاشق نما مہہ جبیں پہ پڑی اچھا تو وہ طفیل مستری نہیں تھا مجنوں نے دل ہی دل میں سوچا
 "بیٹے یہ تمہاری کزن بلقیس ہے جس سے بچپن میں تمہاری منگنی طے پائی تھی" 
خالہ نے مجنوں کو خیالوں میں گم دیکھ کر اسکی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا مجنوں نے سوچا میں موبائل کے 3310 ورژن سے چھٹکارہ پانے کا سوچ رہا ہوں اور یہ مجھے عورتوں کے 3310 ورژن سے بیاہنے چلے ہیں مجنوں کا دل کیا ابھی کے ابھی خالہ کو کوئٹہ ایکسپریس میں بٹھا کر صادق آباد بھیج دے

 خیر بجھے دل کے ساتھ اس نے خالہ کا بیگ پیچھے کیرئر پہ رکھا دونوں کو بٹھا کر 125 کو کک ماری ہی تھی کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہو خالہ تو نیچے اتر کے فوراً کلمہ پڑھنے لگ گئی مجنوں نے جیب سے 3310 نکالتے ہوئے کہا خالہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں کال آئی ہے مجنوں نے کال اٹینڈ کی تو دوسری طرف راجو تھا "ابے کدھر ہے جلدی پہنچ ایک مست ویڈیو آئی ہے" راجو کی آواز آئی "اب میں خود ہی دیکھ لیا کروں گا تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے" اس نے جل کے جواب دیا خالہ اور اپنے بچپن کی منگیتر کو لے کے مجنوں گھر پہنچا مجنوں کی ماں تو بلقیس پہ جیسے فدا ہو رہی تھی خالہ نے کہا کھانا بہت اچھا بناتی ہے میری بلقیس فیس بک پہ ایک گروپ کی ایڈمن ہے کھانے بنا بنا کے اس پہ لگاتی رہتی ہے ہر کوئی یمی یمی کرتا رہ جاتا ہے مجنوں جو بار بار خالہ کے بیگ کی طرف دیکھ رہا تھا حسرت بھرے لہجے میں اپنا 3310 دکھاتے بولا 
"خالہ ہمیں کیا پتہ کہ فیس بک کیا ہوتی ہے؟؟"

 خالہ کا تو جیسے دل پسیج گیا فوراً بیگ میں سے ڈبہ پیک کیو موبائل اے75 نکال کے مجنوں کے ہاتھ میں تھما دیا مجنوں تو جیسے خوشی سے پاگل ہو رہا تھا یوفون کی 3جی سم اس نے پہلے ہی خرید رکھی تھی. موبائل میں ڈالتے ہی اس نے ہفتہ وار پیکیج ایکٹیویٹ کروایا اور سب سے پہلے فیس بک پہ اپنی آئی ڈی بنائی. اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ نام کیا رکھے ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے بلقیس کی آواز سنائی دی"پرنس مجنوں" بہت جچے گا آپ پر مجنوں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو بلقیس شرم کے مارے دوپٹے کا پلوہاتھ کی انگلی میں گھمائے چلی جا رہی تھی اس نے سوچا خود چاہے کتنی ہی نامعقول کیوں نہ ہو بات معقول کی ہے پرنس مجنوں ہی ٹھیک ہے.ریلیشن شپ اسٹیٹس میں شدید سنگل کا آپشن نہیں تھا چاروناچار اسے سنگل پہ ہی اکتفا کرنا پڑا اس نے آئی ڈی بنائی ہی تھی کہ ساتھ ہی فرینڈ ریکوئیسٹ آگئی اس نے قدرے حیران ہوتے ہوئے ریکوئیسٹ اوپن کی تو لکھا تھا 

 پاپا کی پرنسس

 جاری ہے

 نوٹ: یہ کہانی تین سال پہلے لکھی گئی تھی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہنوز دلی دور است

ڈئیر ڈائری!

لیلیٰ مجنوں