مجنوں حیران تھا کہ اتنی جلدی فرینڈ ریکوئیسٹ... ؟؟. اس نے سوچا اتنی جلدی تو مارک زکربرگ ہی ریکوئیسٹ بھیج سکتا ہے پھر اس نے سوچا ہو نہ ہو یہ راجو کی حرکت ہو گی کیونکہ راجو اسے اپنے فیک آئی ڈیز کے قصے سناتا رہتا تھا کہ کیسے اس نے لڑکی کے نام کی آئی ڈی بنا کے لڑکوں کو پھانسا خیر اس نے پروفائل اوپن کی ڈی پی میں کسی حسینہ کے ہونٹ اور ناک کی چونچ دکھائی دے رہی تھے اسے ہونٹ اور ناک تھوڑے شناسا سے محسوس ہوئے لیکن باوجود کوشش کے اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے یہ ہونٹ اور ناک کس کے چہرے پر دیکھے ہیں پرنسیس نے بائیو میں لکھا تھا
"Works at Student"
اور پھر جیسے ہی اسکی نظر "لِوز ان پتوکی" پہ پڑی اسکا ماتھا ٹھنکا اور وہ پرنسیس کو بلاک مارنے ہی لگا تھا کہ پیچھے سے بلقیس کی آواز آئی
"آپ نے میری ریکوئیسٹ ایکسیپٹ نہیں کی ابھی تک... "
اور مجنوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بچپن کی منگیتر کو فیس بک پہ ایڈ کرنا پڑا اسکے بعد اس نے راجو سمیت اپنے بچپن کے دوستوں کو ریکوئیسٹس بھیجیں ابھی وہ ہمسائیوں کی انوری کو ریکوئیسٹ بھیجنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اسکی ماں کی غصیلی آواز سنائی دی
"وے مر جانیا اگ لگے تیرے ایس موبیل نوں نہ روٹی کھان دی ہوش نہ سون دی پروا ہر ویلے ٹک ٹک ٹک"
"اماں یہ ٹچ موبائل ہے اس پہ ٹک ٹک نہیں ہوتی"
اس نے کمرے سے نکل کر واش بیسن کی طرف جاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اماں کی چپل اسکی گدی پہ آکے پڑی
"ہن ماں اگے زبان چلاویں گا"
مجنوں کی ماں غصے سے بولی مجنوں نے گدی سہلاتے ہوئے واش بیسن کی طرف مزید پیش قدمی کی ہی تھی کہ پھر اماں کی آواز سنائی دی "جوتی پھڑا دے کہ میں آپ اٹھ کے آواں ہن"
مجنوں نے اماں کی طرف دیکھا اماں ڈوئی کے ساتھ خالہ کی پلیٹ میں سالن ڈال رہی تھی اسے دو دن پہلے کا واقعہ یاد آگیا جب وہ ایسے ہی فلائنگ چپل کھانے کے بعد واپس اماں کو واپس دینے گیا تھا تو اماں نے ڈوئی مار کر اسکے بازو پہ آلو ڈال دیا تھا اسکا آگے کنواں اور پیچھے کھائی والا حساب تھا کیونکہ اگر وہ جوتی واپس نہ دے کے آتا تو اماں ڈوئی ادھر بیٹھے بیٹھے "بومرینگ" کی طرح مار کر بھی اسکا کام تمام کر سکتی تھیں اور اماں کو اس میں کمال درجے کی مہارت حاصل تھی مجنوں اپنی جگہ پہ ساکت کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے کہ بلقیس مدد کے لئے پہنچ گئی اور جوتی اٹھاتے ہوئے بولی
"میں پکڑا آتی ہوں مجھے اندازہ ہے کتنا مشکل ہوتا ایسی صورتحال میں کوئی بھی فیصلہ کرنا"
مجنوں کو پہلے تو اسکی اس فلاسفانہ گفتگو کی ککھ سمجھ نہ آئی خیر اس نے سوچا مٹی پاؤ جان بچی سو لاکھوں پائے. واش بیسن پہ ہاتھ دھوتے بلقیس کی کہی بات کا بیک گراؤنڈ اسے سمجھ آہی گیا
"ارے وہ بیچاری بھی تو میری ماں کی بہن کی بیٹی ہے نا اور ہیں بھی پتوکی سے کونسا لندن میں رہتے ہیں تو اسے بھی تو جوتی اور ڈوئی کے اس چولی دامن کے ساتھ کا پتہ ہی ہو گا"
مجنوں نے مسکراتے ہوئے سوچا
جلدی جلدی کھانا زہر مار کرنے کے بعد مجنوں پھر اپنے کمرے میں جاکر موبائل لیکر بیٹھ گیا راجو اور بوبی نے اسکی ریکوئیسٹ قبول کر لی تھی اور اسکی ڈی پی پہ کمنٹس بھی کئے تھے اس نے اپنی سب سے اچھی فوٹو ڈی پی کے لئے منتخب کی تھی جس میں وہ سفید کاٹن کا کرتا پہنے 125 پہ بیٹھا ہوا تھا اس نے کمنٹس چیک کئے تو راجو نے کہا تھا
"معزز میراثی لگ رہا ہے"
اور بوبی نے تو ساری ڈی پی کا بیڑہ غرق کر دیا تھا اس نے کمنٹ کیا تھا "چٹے کرتیاں نال کالے کرتوت نئیں لکدے"
مجنوں خون کے گھونٹ پی کے رہ گیا. ابھی اسکا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ نوٹیفیکیشن آیا کہ
"Raju Rocket tagged you in a post"
اس نے نوٹیفیکیشن اوپن کیا تو لکھا ہوا تھا
کسی ایسے بندے کو ٹیگ کریں جسکی شکل 125 کی کک جیسی ہے مجنوں نے سوچا میں یہاں کیا توا لگوانے آیا ہوں نہ گھر میں کوئی عزت نہ باہر اور نہ ہی فیس بک پہ اس نے سوچا لعنت بھیجو ان پہ آرام سے سوتے ہیں وہ موبائل بند کر کے لیٹا ہی تھا کہ نوٹیفیکیشن کی بیپ سنائی دی پھر راجو نے کوئی گھٹیا پن کیا ہو گا وہ زیرلب بڑبڑایا نوٹیفیکیشن بار پہ ٹیب کیا تو لکھا تھا
"Papa ki Princess tagged you in a post"
اس نے اوپن کیا تو لکھا تھا
Papa ki princess is feeling sleepy with you and 69 Others
پوسٹ پہ لونلی پرنس، سیڈ کنگ, ہارٹ ہرٹڈ, سیانا گجر اور پتہ نہیں کس کس کے کمنٹس آئے ہوئے تھے مجنوں کا دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے اس نے موبائل سائیلنٹ پہ لگایا اور سو گیا
صبح اٹھ کے اس نے اس حسرت کے ساتھ موبائل اٹھایا کہ شائد کسی مہہ جبیں کی ریکوئیسٹ آئی ہو لیکن سوائے 3 نوٹیفیکیشنز کے اور کچھ نہ تھا ایک تو رات والی پوسٹ پہ کمنٹس کا تھا ایک نوٹیفیکیشن یہ بتا رہا تھا کہ
"Papa ki princess is feeling fresh with you and 69 others"
اور تیسرا نوٹیفیکیشن اس تازہ پوسٹ پہ کمنٹس کا تھا
مجنوں کو الجھن ہو رہی تھی کہ فیس بک کا کیا فائدہ جب انہی لوگوں کی شکلیں دیکھنی ہیں تو چلو کسی حسینہ کو ایڈ کرتے ہیں اس نے سوچا اکبری کو ایڈ کرتا ہوں پھر اسے ہفتہ پہلے کا واقعہ یاد آگیا جب اکبری کے ساتوں بھائیوں نے ایک لڑکے کی تب پھینٹی لگائی تھی جب وہ اکبری کو گلی کی نکڑ پہ روک کے کہہ رہا تھا اپنا
"ادر میسیجز" والا آپشن چیک کرنا میں نے تمہیں میسیج کیا تھا
یہ سوچ کر مجنوں نے کہا سات بھائیوں سے بہتر میں سنگل ہی رہ لوں پھر اس نے "فرینڈ سجیشنز" چیک کیں تو دوسرے نمبر پہ لکھا ہوا ھا
"Laila"
مجنوں حیران کہ لیلا کیا نام ہوا "چنیوٹ دا لیلا؟؟" وہ اسی شش و پنج میں تھا کہ گلی میں سے ایک چنگچی گزرا اور ٹیپ فل آواز میں چل رہی تھی
لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ
جاری ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں