تاریخ کے اوراق سے
لیلیٰ مجنوں
حصہ سوم
مجنوں کی آنکھوں کے سامنے سنی لیونی کا سراپا گھوم گیا اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ ریکوئیسٹ بھیجی اور پھر یوٹیوب پہ سنی لیونی کے گانوں کی ویڈیوز دیکھنا شروع ہو گیا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ تھوڑا اور انتظار بس سپنوں کی شہزادی ملنے ہی والی ہے ابھی اس نے تیسرا گانا پلے کیا ہی تھا کہ اماں کی جوتی اس کی کمر پہ پڑی تھی وہ بلبلا کے رہ گیا تھا پیچھے مڑ کے دیکھا تو اماں جوتی ہاتھ میں پکڑے اس کے سر پہ کھڑی تھی "وے کنجرا کی سویرے سویرےکنجر خانہ لا کے بے گیا" اس سے پہلے کہ دوسری جوتی پڑتی مجنوں نے چھلانگ لگائی اور دوسرے لمحے وہ کمرے سے باہر تھا
وہ کافی دیر سے آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ خود کو کوسے یا اپنی قسمت کو پتہ نہیں اور کتنی دیر تک وہ اس احساس کمتری کے ساتھ اپنا جائزہ لیتی رہتی کہ اماں کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑ دیا "ارے کلموہی دودھ ابل گیا ابھی تو ایسی شکل کے ساتھ اتنی دیر شیشہ دیکھتی ہے اگر تھوڑی سوہنی ہوتی تو پتہ نہیں کیا کرتی" اوہ آج پھر دودھ ابل گیا وہ بڑبڑاتے ہوئے باورچی خانے کی طرف دوڑی...."لیلیٰ..... یہ بھلا کیا نام ہوا" گیس بند کر کے دیگچی چولہے سے اتارتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی
جی ہاں یہ لیلیٰ تھی جھمرے کے ایک کھاتے پیتے راجپوت گھرانے کی اکلوتی اولاد. آج سے پچیس سال پیچھے جب اس نے جنم لیا تو اسکو دیکھ کر جیسے اسکی ماں کا کلیجہ منہ کو آگیا تھا ایک تو رات کا وقت دوسرا لوڈشیڈنگ اور اوپر سے شب دیجور جیسی یہ بچی لوگ بتاتے ہیں کہ سات دن تک پورے علاقے کی لائٹ بند رہی اور لوڈ شیڈنگ کے ناگ نے اسکے بعد ہی اپنا پھن پھیلایا تھا بس رات کے اندھیرے میں رات کی سیاہی جیسی شکل کے ساتھ جنم لینے کی وجہ سے اسکا نام لیلیٰ ہی پڑ گیا.
لیلیٰ ایک تو واقعی میں کالی تھی اوپر سے اسکی ماں کے القابات نے اسے مزید احساس کمتری کا شکار بنا دیا تھا وہ ہر وقت گوری ہونے کی ترکیبیں لڑاتی رہتی تھی اس کے ڈریسنگ پہ ہر طرح کی بیوٹی کریم پڑی تھی کیا فائزہ بیوٹی کریم اور کیافئیر اینڈ لولی...فیس فریش بیوٹی کریم کے کمرشل میں آئزہ خان کو دیکھ کر اس نے وہ بھی آزما چھوڑی تھی لیکن اسکے نصیب کی سیاہی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی سب سے زیادہ مایوسی اسے تب ہوئی جب زبیدہ آپا کے ٹوٹکوں نے بھی جواب دے دیا
دودھ ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھنے کے بعد لیلیٰ نے سوچا فیس بک ہی چیک کر لوں شائد زبیدہ آپا کا کوئی نیا ٹوٹکا آیا ہو رنگ گورا کرنے کے لئے اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب فرینڈ ریکوئیسٹ بار پہ لال رنگ میں "1" لکھا نظر آیا اسے تو کبھی کسی نے ریکوئیسٹ نہیں بھیجی تھی جسکو بھی ایڈ کیا اس نے خود ہی کیا ان میں سے بھی اکثر دوسرے تیسرے دن ہی اسے بلاک کر جاتے تھے اس نے ریکوئیسٹ اوپن کی تو کسی مجنوں نامی لڑکے کی تھی اس نے جھٹ سے قبول کر لی کہ یہ نہ ہو کینسل ہی کر دے شائد یہی ہو میری بلیک اینڈ وائت زندگی میں رنگ بھرنے والا اس نے سوچا تھا
مجنوں نے جیسے تیسے کر کے ناشتہ کیا سارا وقت اشاروں اشاروں میں اس کے اور بلقیس کے رشتے کی باتیں ہوتی رہیں ناشتہ ختم کرتے ہی وہ کمرے میں آ کر پھر فیس بک اوپن کر کے بیٹھ گیا تھا اور اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی جب لیلیٰ کی طرف سے فرینڈ ریکوئیسٹ قبول کئے جانے کا نوٹیفکیشن آیا تھا اس نے بے قابو دھڑکن کے ساتھ لیلیٰ کو ہائے کا میسیج کیا تھا اور لیلیٰ تو جیسے تیار ہی بیٹھی تو اس نے بھی فوراً سے ہائے کا ریپلائی کیا بس پھر اسکے بعد یہ سلسلہ رکنے والا نہیں تھا انہیں ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ برسوں کے شناسا ہوں دو دن بعد ہی دونوں کو محسوس ہونے لگا تھا
جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے
لیلیٰ کو رومانٹک میسیج کرنے میں راجو مجنوں کو
فل سپورٹ کرتا تھا بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ وہ ان سب میسیجز کا "کو رائٹر" تھا اور پھر وہ دن بھی آگیا جب لیلیٰ مجنوں نے ملنے کا فیصلہ کیا طے پایا مجنوں جھمرے جاکر لیلیٰ سے ملاقات کر ے گا
لیلیٰ حوصلہ کر کے گھر سے نکل تو آئی تھی لیکن اسے خوف تھا کہ اگر مجنوں نے اسے دیکھنے کے بعد ریجیکٹ کر دیا تو کیا ہو گا دوسری طرف مجنوں کے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ اسکی آنکھوں میں نہاتے ہوئے صابن چلا گیا اور اب اسے صبح سے ہر چیز دھندلی دکھائی دے رہی تھی لیکن مجنوں نے سوچا "وعدہ کیا تو نبھانا پڑے گا" اور جیسے تیسے کر کے شہر جاناں میں لیلیٰ کے بتائے ہوئے پارک میں پہنچ گیا ابھی تھوڑی دیر پہلے لیلیٰ نے اسے بتایا تھا کہ وہ جھولوں کے پاس جو سرو کا درخت ہے اس کے پیچھے بینچ پہ بلیک ڈریس پہنے بیٹھی بے صبری سے اسکا انتظار کر رہی ہے مجنوں وہاں پہنچا تو لیلیٰ سہمی سمٹی سی بیٹھی تھی مجنوں نے قریب پہنچ کے سلام کیا تو لیلیٰ جو دوسری طرف منہ کئے بیٹھی تھی اس نے گردن گھما کے مجنوں کی طرف دیکھا اور مجنوں کو یوں محسوس ہوا جیسے نصرت صاحب نے یہ قوالی اسی کے لئے گائی ہو
میرے رشک قمر تونے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آگیا
مجنوں کی بدقسمتی اسے "لو ایٹ فرسٹ سائٹ" ہوا تھا اور اسمیں اسکی بالکل بھی کوئی غلطی نہیں تھی سارا قصور اسکی اس نظر کا تھا جو آنکھ میں صابن جانے کی وجہ سے دھندلا گئی تھی کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے لیکن مجنوں کے کیس میں محبت دھندلی تھی
جاری ہے
نوٹ: یہ کہانی تین سال پہلے لکھی گئی تھی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں