ڈئیر ڈائری!

تصویر
وہ آدھے گھنٹے سے ایسے ہی ڈائری اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا، پین اس کے ہاتھ میں تو تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو لکھنا چاہ رہا ہے کیسے لکھے، کیونکہ جو باتیں اس کے ذہن میں تھیں وہ پوری طرح مربوط نہ ہو پا رہی تھیں، آخر کچھ دیر مزید خالی آنکھوں سے ڈائری کو گھورنے کے بعد اس نے لکھنا شروع کیا تھا ڈئیر ڈائری!  کیسی ہو؟؟  میں نے آج تک تم سے دوسروں کی بات ہی کی ہے غیروں کے تذکرے ہی کیے ہیں... کہ فلاں دوست سے آج ملاقات ہوئی، فلاں رشتے دار نے آج یہ کہا، فلاں کو مس کر رہا ہوں فلاں کی بات سے دل دکھا وغیرہ وغیرہ، سوچ رہا ہوں آج تم سے تمہاری بات کروں...ویسے تم بھی حیران ہو رہی ہو گی کہ اسے اچانک سے کیا ہوا.... تو سنو... ہوا یہ کہ کل دوستوں کے وٹس ایپ گروپ میں حاشر کو جانے کیا سوجھی کہ سب کے لیے ایک سوال چھوڑا کہ وہ کس کو اپنا بہترین دوست سمجھتے ہیں... اپنے بھائی کو اپنا بہترین دوست قرار دیتے ہوئے اس سوال کا سب سے پہلا جواب خود حاشر نے ہی دیا.... برہان نے اپنی پھوپھو کے بیٹے کا نام لیا... صالح کے خیال میں حاشر اس کا بہترین دوست تھا... جب کہ اکثریت نے مجھے ہی اپنا بہترین دوست گردانا.....

جادو کی آخری جپھی

 یونیورسٹی سے نکلا ہاسٹل میں اٹکا


پندرھواں حصہ


آج 15 نومبر ہے۔۔۔۔اور میں سوچ رہا ہوں شائد مجھے یہ حصہ نہیں لکھنا چاہئے۔۔۔یونیورسٹی اور ہاسٹل لائف سے وابستہ اس یادداشت نے پڑھنے والوں کو اکثر ہنسایا ہی ہے۔۔۔۔ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھیری ہے۔۔۔۔لیکن میری ہاسٹل اور یونیورسٹی لائف کا یہ والا حصہ کچھ کو رلائے گا۔۔۔۔اور میں جانتا ہوں کون کون روئے گا۔۔۔۔۔اور جو نہیں روئیں گے ان کی آنکھیں ضرور نم ہوں گی۔۔۔۔مجھے شائد یہ حصہ نہیں لکھنا چاہئے تھا۔۔۔۔۔لیکن نہ لکھنا شائد اپنی اس یادداشت کے ساتھ زیادتی ہوتی.....


پانچ سال پہلے بھی ایک 15 نومبر آیا تھا۔۔۔۔۔پچھلے روز گھر پہ قیامت گزر گئی تھی اور میں بےخبر تھا۔۔۔۔۔15 نومبر کی صبح ہم کلاس روم کے سامنے ڈین صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی تھی۔۔۔۔۔میں نے کال اٹینڈ کی دوسری طرف سے ابو کے کوئی کولیگ بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔بیٹا منظور صاحب کا کچھ پتہ چلا؟؟۔۔۔۔۔میرےتو کچھ علم میں ہی نہیں تھا۔۔۔۔پھر انہوں نے خود ہی بتایا تھا کہ ابو کل سے لاپتہ ہیں۔۔۔۔۔میں نیچے آ کر لائبریری کے سامنے والے بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔گھر کال کی تو امی جان رو رہی تھیں۔۔۔۔بیٹا گھر آ جاؤ امی نے روتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔پھر تھوڑی دیر بعد ہی مظہر بھائی کی کال آ گئی تھی۔۔۔۔عثمان آ رہا ہے اس کے ساتھ آ جاؤ بھائی نے کہا تھا۔۔۔۔۔پھر مجھے سمجھ آئی تھی کہ پچھلی رات عثمان بہاولپور آنے کا کیوں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔سارے خاندان کو کل رات تک اطلاع پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔سوائے چھوٹے بیٹے کے کہ گھر سے دور ہے ایسے ہی پریشان ہو گا۔۔۔۔۔اللہ نے چاہا تو مل جائیں گے پھر بتا دیں گے۔۔۔۔۔


27 اکتوبر کی بقر عید تھی۔۔۔۔عید کے چوتھے دن یونیورسٹی دوبارہ سے کھل رہی تھی۔۔۔۔۔پتہ نہیں کس بات کی جلدی تھی میں عید کے تیسرے دن 29 اکتوبر کو ہی ہاسٹل چلا گیا تھا۔۔۔۔گھر کے گیٹ کے پاس ابو سے گلے ملا تھا۔۔۔۔کیا معلوم تھا کہ یہ جادو کی جپھی دوبارہ نصیب میں نہیں ہو گی۔۔۔۔۔بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ آخری بار دیکھ رہا ہوں انہیں۔۔۔۔۔اور یہ شفقت بھرا لمس پھر کبھی مقدر میں نہ ہو گا۔۔۔۔۔


عثمان پہنچ گیا تھا مجھے ساتھ لیجانے کے لئے۔۔۔۔۔۔کہ چھوٹا بیٹا کیسے خود کو اکیلا سنبھالے گا۔۔۔۔۔کیسے واپس آئے گا۔۔۔۔۔۔گھر پہنچا تھا۔۔۔۔سبھی لوگ پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔چھ دن امید و بیم کی سولی پہ لٹکتے گزرے تھے۔۔۔۔دعائیں، التجائیں اور فریادیں۔۔۔۔۔۔انتظار تھا۔۔۔۔۔لیکن جو ہونا تھا وہ شائد دعائیں کرنے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔چھ دن بعد باپ گھر لوٹا تو تھا لیکن زندگی روٹھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ذی الحجہ۔۔۔۔جس میں میرے باپ سے سانسیں چھین لی گئی تھیں۔۔۔۔۔۔کیوں، کب، کیسے، کس نے۔۔۔۔زندگی ہی سوالیہ نشان بن گئی تھی۔۔۔۔اور آج تک بنی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔


پھر گویا زندگی کیلنڈر کی طرح دیوار پہ لٹک گئی تھی۔۔۔۔۔اتنے دن ہو گئے۔۔۔۔اتنے ہفتے ہو گئے۔۔۔۔اتنے مہینے ہو گئے۔۔۔۔۔۔سال ہو گیا۔۔۔۔سبھی گھر والوں کا دکھ سانجھا تھا۔۔۔۔کون کسے حوصلہ دے۔۔۔۔کس کے ساتھ باتیں کرے۔۔۔۔۔سب کے سوال ایک جیسے ہی تھے۔۔۔۔۔جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔۔۔زندگی تو نہیں رکی تھی لیکن ہم لوگ وہیں ٹھہر گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔اداسی، بے بسی، خودترسی، اذیت۔۔۔۔۔زندگی جیسے فقط انہی کیفیات کا نام بن گئی تھی۔۔۔۔۔


3 دسمبر کو میں واپس ہاسٹل آ گیا تھا۔۔۔۔۔لیکن سب کچھ بدل چکا تھا۔۔۔۔۔۔ہر وقت سوچیں، یادیں، پچھتاوے دل و دماغ میں گھومتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔میڈیکل کالج سے نکلنے کا دکھ تو تھا لیکن میں اس بارے میں اب زیادہ نہیں سوچتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اب وہ دکھ دوبارہ سے تازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ایک پچھتاوہ تھا جو ہمیشہ رہے گا کہ باپ کی زندگی میں کچھ بن کے دکھا سکتا تھا۔۔۔۔۔باپ کے ساتھ گزرا وقت ہر وقت آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا تھا۔۔۔۔ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ فلاں وقت ایسے کر سکتا تھا۔۔۔۔۔فلاں بات ایسے ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔اور پتہ نہیں کیا کچھ۔۔۔۔۔۔


گزرا وقت کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا تھا۔۔۔۔بچپن میں ہی گاؤں سے شہر آ گئے تھے۔۔۔۔اس لئے بہت زیادہ یادیں تو نہیں تھیں۔۔۔۔۔لیکن کچھ تھیں جو ہمیشہ کے لئے دماغ میں بس گئی تھیں۔۔۔۔۔قرآن مجید کی جو سوره سب سے پہلے یاد کی تھی وہ غالباً سورہ کوثر ہی تھی اور ابو نے ہی یاد کروائی تھی۔۔۔۔۔شام کو دور سے ہی فیروزی تھیلا دیکھ کر پتہ چل جاتا تھا ابو آ رہے ہیں۔۔۔۔۔ایک دفعہ بہت چھوٹی عمر میں ابو کے کندھے پہ سوار ہو کر میلہ بھی دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔شادی شدہ اور کنواروں کی ٹیم کے کرکٹ میچ سے پہلے ابو کو کروائی جانے والی دو تین دن کی بیٹنگ اور فیلڈنگ پریکٹس۔۔۔۔۔۔۔باقی تو کچھ صحیح سے یاد نہیں۔۔۔۔۔۔


نو سال کا تھا جب شہرآ گیا تھا۔۔۔۔۔۔بارہ ربیع الاول پہ بازار سجتے تو ابو کے ساتھ گھومنے جانا۔۔۔۔۔ابو کا ریڈیو کان کو لگا کے بی بی سی کا پروگرام سیربین سننا۔۔۔۔۔ابو کا سردیوں میں مخصوص انداز میں  سر پر گرم چادر لپیٹنا۔۔۔۔۔ابو کے ساتھ بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھنا۔۔۔ابو کا محلے کے چھوٹے بچوں کو آتے جاتے پیار سے بلانا۔۔۔۔کسی نہ کسی بہانے ہمیں آئس کریم کھلانا۔۔۔۔۔میں کوئی بات کر رہا ہوتا تو کہنا "کی کھپ پائی آ توں"۔۔۔۔۔ابو کے ساتھ مری اور گلیات کی سیر۔۔۔۔۔بھائی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ۔۔۔۔۔میٹرک تک یہی روائت رہی کہ نئی کلاس کی کتابیں ابو ہی لا کے دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔ایف ایس سی تک بھی امتحانات کے لئے ابو کے ساتھ جایا کرتا تھا۔۔۔۔۔ابو پہلے مجھے امتحانی مرکزی چھوڑتے پھر کچہری جاتے۔۔۔۔۔۔پھر جب میں ساڑھے تین گھنٹے کے پیپر کے بعد باہر نکلتا تو ابو پہلے سے ہی موجود ہوتے۔۔۔۔۔ہاں بھئی کیسا ہوا پیپر ابو پوچھتے۔۔۔۔میں کہتا اچھا ہو گیا۔۔۔۔۔ابو پھر پوچھتے تسلی بخش ہو گیا نا۔۔۔۔۔ایف ایس سی فرسٹ پارٹ کے رزلٹ پہ ابو نے خوشی کے آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ گلے لگایا تھا۔۔۔۔۔اب تک نہیں بھولتا۔۔۔۔۔میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ملا تو ابو پھولے نہیں سما رہے تھے۔۔۔۔۔لیکن پھر اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے باپ کا وہ سپنا توڑ دیا تھا۔۔۔۔۔پر کبھی ایک مرتبہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ابو نے کبھی اشارے میں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔


میں یونیورسٹی واپس آ تو گیا تھا۔۔۔۔لیکن دماغ انہیں سوچوں، یادوں اور پچھتاووں میں جکڑا رہتا تھا۔۔۔۔۔دل کرتا تھا کوئی بلائے نہ۔۔۔۔۔۔کوئی نہ کچھ پوچھے نہ بتائے۔۔۔۔۔میں بیٹھا ہوں تو کھڑا نہ ہونا پڑے۔۔۔۔لیٹا ہوں تو بیٹھنے کو کوئی نہ کہے۔۔۔۔۔یونیورسٹی جاتا تو کلاس میں دم گھٹتا تھا۔۔۔۔۔بہت دفعہ ایسا ہوا کہ کلاس بیچ میں چھوڑ کر ہاسٹل چلا آیا۔۔۔۔۔ہاسٹل آ کر لیٹا رہتا۔۔۔۔۔سب بلاتے کہ آؤ لان میں کرکٹ کھیلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں انکار کر دیتا۔۔۔۔۔پھر لیٹے لیٹے تھک جاتا تو گراؤنڈ میں جا کر بےمقصد بیٹھ جاتا۔۔۔۔۔


ویسے تو مجھے سردیاں کبھی بھی پسند نہیں رہیں۔۔۔۔۔اور اب تو اور بھی بری لگنے لگی تھیں۔۔۔۔۔لیکن اس وقت ایک سہولت بھی تھی سردیوں میں۔۔۔۔۔میں کمبل میں منہ چھپا کر آواز نکالے بغیر رو سکتا تھا۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کہ کبھی میرے روم میٹ کو احساس ہوا یا نہیں۔۔۔۔۔۔یا شائد احساس ہوا ہو لیکن سوچا ہو کہ کیا کہوں اسے۔۔۔۔کیا حوصلہ دوں اسے۔۔۔۔۔روتے روتے سانس بند ہونے لگ جاتی۔۔۔۔۔پھر باتھ روم جاتا۔۔۔۔منہ دھوتا۔۔۔۔۔اور باتھ روم میں چھپ کر خوب روتا۔۔۔۔۔لوڈ شیڈنگ ہمیشہ کسی عذاب سے کم نہ لگتی تھی۔۔۔۔۔لیکن ان دنوں رات میں بجلی بند ہونا بھی اچھا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔میں کسی بھی اندھیرے کمرے میں بیٹھ کے رو سکتا تھا۔۔۔۔۔رات کو سونے کے لئے لیٹتا تو نیند نہ آتی۔۔۔۔۔ہاسٹل کے کوریڈورز کے چکر لگاتا رہتا۔۔۔۔۔


دوستوں میں سے کوئی مذاق میں بھی سگریٹ لگاتا تھا تو میں چھین کے پھینک دیتا تھا۔۔۔۔۔لیکن ان دنوں میں میں نے خود سگریٹ پیا تھا۔۔۔۔۔ویسے مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ غم میں سگریٹ پینے کی کیا وجہ ہے۔۔۔۔۔چلو جو پیتا ہے وہ تو شائد کچھ محسوس کرتا ہو۔۔۔۔کچھ ہلکا پن، کچھ تلخیوں میں کمی۔۔۔۔لیکن جس نے کبھی پیا نہیں وہ کیوں اپنے دکھ کو سگریٹ کی نظر کرنے چل پڑتا ہے۔۔۔۔۔شائد ہم سگریٹ کے دھوئیں کو اپنے اندر کھینچ کر باہر نکالتے ہوئے ساتھ میں اپنے غم، تلخیاں، دکھ اور پچھتاوے بھی اسی کے ساتھ اڑا دینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔سگریٹ کی راکھ میں ہمیں اپنے راکھ ہوئے سپنے، خواب اور حسرتیں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔۔۔بہرحال کچھ دن کے بعد یہ مشغلہ بھی ترک کر دیا تھا۔۔۔۔کسی کام کا نہیں تھا۔۔۔۔


آپ کسی کے کتنا بھی قریب کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔لیکن آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ ایک حد سے آگے نہیں جایا جا سکتا۔۔۔۔۔سب جانتے تھے کہ میں بہت کم باتیں شئیر کرتا ہوں۔۔۔۔۔دوستوں نے مجھے زندگی کی طرف لانے کی کوشش تو کی تھی لیکن وہ اس حد سے آگے نہ بڑھ سکے تھے۔۔۔۔۔نہ میں کسی سے کہتا تھا نہ کوئی پوچھتا تھا۔۔۔۔کئی دفعہ بتانا بھی چاہا تو سننے والے نے اپنے کسی غم کا قصہ کھول لیا۔۔۔۔اور اپنے اس دکھ کو میرے دکھ کے برابر یا اس سے بھی بڑا بنا ڈالا۔۔۔۔۔۔ہم سب کی عادت ہے۔۔۔۔۔جب کوئی اپنی کوئی پریشانی یا تکلیف بتانے لگتا ہے تو ہم آگے سے اپنے قصے لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔۔کہ ہم بھی پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔۔۔۔یہ سوچے بغیر کہ بتانے والے کے لئے اسکا وہ غم کتنا بڑا ہوگا جو وہ بتائے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے میں کسی کو کچھ بتاتا بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔اور گھر کے جو پانچ لوگ سمجھ سکتے تھے ان کو اور کیا رلاتا۔۔۔۔۔۔


گھر میں موجود انسانوں کے دلوں پہ ہی اداسی کا راج نہیں تھا۔۔۔۔۔بلکہ گھر کے در و دیوار بھی گھر کے مالک کے جانے پہ اداس تھے۔۔۔۔۔وہ کمرہ جہاں بیٹھ کر ابو بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے وہ بھی سونا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ابو کے ہاتھ کا لیمن گراس کا پودا۔۔۔۔جسکا قہوہ بنوا کے ابو پیا کرتے تھے۔۔۔۔وہ بھی ابو کو پاس نہ پا کر مرجھا گیا تھا۔۔۔۔۔گھر کے بلب ایک ایک کر کے فیوز ہونا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔سب نے ہی جانے والے کی کمی کو محسوس کیا تھا۔۔۔۔۔ابو نے اپنے موبائل میں خود تلاوت کر کے ریکارڈنگ بھی کر رکھی تھی۔۔۔۔ابھی بھی وہ ریکارڈنگز کمپیوٹر میں محفوظ ہیں۔۔۔۔۔لیکن کبھی بھی پانچ سیکنڈ سے زیادہ سننے کا حوصلہ نہیں پڑا۔۔۔۔۔


بتائے کون اس کو جا کے فیضی جو بعد اس کے جہاں پہ بیتی

کوئی تو جائے سنائے اس کو جو دل پہ گزری جو جاں پہ بیتی


دو سال پہلے ابو کافی بیمار رہے تھے۔۔۔۔۔ایک انجانا سا خوف دل میں بس گیا تھا۔۔۔۔۔اللہ سے دعا مانگی تھی کہ ابو کے نام کا سابقہ اور لاحقہ کبھی نہ چھیننا۔۔۔۔۔لاحقہ تو اس طرح کے باپ کا نام میرے نام کا حصہ تھا۔۔۔۔اور سابقہ اس طرح کہ جہاں بھی گئے ابو کا نام پہلے ہوتا تھا۔۔۔۔ابو کے نام کے ساتھ ہی تعارف ہوتا تھا۔۔۔۔منظور صاحب کا بیٹا ہے تو اور کچھ کہنے یا بتانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔اب بھی گاؤں جاتا ہوں تو "منظور دا منڈا ایں" سن کی عجیب سی راحت ملتی ہے۔۔۔۔۔باپ کی کمائی ہوئی عزت اب تک ساتھ چلتی ہے۔۔۔۔۔بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔۔۔۔۔دادا ابو کی بائیس سال پہلے وفات ہو چکی تھی۔۔۔۔۔بہنوں اور بھائیوں کو بڑے بھائی میں ہمیشہ باپ کا روپ نظر آتا تھا۔۔۔۔۔۔جب ابو کی میت گھر لائی گئی تھی تو بڑی پھوپھو نے کہا تھا۔۔۔۔۔ہمارا باپ تو آج مرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔


زندگی رکتی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔آپ رک جاتے ہیں۔۔۔۔۔کم از کم آپ کے اردگرد تو کسی کی بھی نہیں۔۔۔۔۔سب چل رہا تھا۔۔۔۔۔لان کی کرکٹ۔۔۔۔ہنسی مذاق۔۔۔۔۔ہلہ گلہ۔۔۔۔۔وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔۔۔۔۔بارش ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ہم فارماسیوٹکس لیب کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔باقی سب ایک ستون کے پاس اور میں ذرا ہٹ کے دوسرے ستون کے ساتھ۔۔۔۔۔۔بارش میں اداسی اور بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن اداس تو بس میں تھا۔۔۔۔باقی لوگ ایک گانے کا ایک بول بار بار اونچی آواز میں گا کر ہنس رہے تھے۔۔۔۔۔۔اور مجھے اس گانے سے نفرت سی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔


رہتے ہیں کچھ ملول سے چہرے پڑوس میں. 

اتنا نہ تیز کیجیے ڈھولک کی تھاپ کو


سبھی میرے روم میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔اچانک پتہ نہیں کس نے وہ موضوع چھیڑا تھا۔۔۔۔۔ابو کتنا پیار کرتے ہیں۔۔۔۔پیار کا اظہار کیسے کرتے ہیں.....پہلے ایک نے بتایا۔۔۔۔پھر دوسرے نے بتانا شروع کیا۔۔۔۔۔۔کسی نے ایک لمحے کے لئے بھی میرے بارے میں نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔میں مزید کیسے سنتا۔۔۔۔۔اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ کیوں اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔۔بتانے والا بھی ایک پل کے لئے نہیں رکا تھا کہ آنکھ اٹھا کر میری طرف دیکھا ہو کہ یہ کیوں اچانک اٹھ کے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔پھر میں کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔اور شائد کسی نے بھی اس بات کو نوٹس نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔اس وقت باتھ روم سے اچھی کوئی جائے پناہ نہ تھی۔۔۔۔۔


میں دیکھنے میں خشک آنکھوں کے ساتھ پھرتا تھا۔۔۔۔۔ملتا تھا تو مسکرا کے ملتا تھا۔۔۔۔دیکھنے والے کہتے تھے مدثر بڑے حوصلے والا ہے۔۔۔۔۔میرے خیال میں حوصلے کی تعریف یہی ہے کہ کون اپنا باطن کا روگ کس حد تک ظاہر پہ غالب نہیں آنے دیتا۔۔۔۔۔ایک دھوکا ہے۔۔۔۔اور کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔۔دنیا کا ہر انسان ایک اداکار ہے۔۔۔۔۔جو تم درحقیقت نہیں ہو ساری زندگی وہی بن کر دکھاتے رہو۔۔۔۔۔اندر چاہے برسات کی جھڑی لگی ہو لیکن لبوں سے مسکراہٹ غائب نہ ہونے پائے۔۔۔۔اندر سے ٹوٹ گئے ہو لیکن اوپر سے پتھر بنے رہو۔۔۔۔۔کسی کی بات کتنی ہی بری کیوں نہ لگے اسے محسوس نہ ہونے دو۔۔۔۔۔۔ساری زندگی اداکاری کا ہی تو نام ہے۔۔۔۔۔اور حوصلہ دکھانا بھی اسی کی ایک سٹیج ہے۔۔۔۔۔اور ویسے بھی آنسو تو کمزور ہونے کی علامت ہوتے ہیں نا۔۔۔۔۔اور مرد کو تو بالکل بھی کسی کے سامنے اپنا آپ کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔جو دامن پر نہیں گرتا وہ آنسو دل پہ گرتا ہے۔۔۔۔۔


اسکول سے لیکر یونیورسٹی تک میری ایک ہی شناخت تھی۔۔۔۔زندہ دل۔۔۔۔ہنس مکھ۔۔۔۔۔ہنسی مذاق کرنے والا۔۔۔۔۔۔سب کا دل لگائے رکھنے والا۔۔۔۔۔میں ایک entertainer تھا۔۔۔۔۔سب کے لئے میں ایک entertainer ہی تھا۔۔۔۔۔سب نے ہمیشہ میرا یہی روپ دیکھا تھا۔۔۔۔لیکن اب میں بورنگ ہو گیا تھا۔۔۔۔ہر بات کا ہوں، ہاں میں جواب دینے والا۔۔۔۔۔گیٹ ٹو گیدرز سے دور بھاگنے والا۔۔۔۔۔کلاس کے بوائز نے ویک اینڈ پہ سوئمنگ پول پہ گیٹ ٹو گیدر رکھی تھی۔۔۔۔۔اور میں اس دن پھوپھو کے پاس گاؤں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔سب نے بعد میں یہی کہا کہ تمہیں بہت مس کیا۔۔۔۔۔نہ تو میں اب لان میں کرکٹ کھیلتا تھا۔۔۔۔نہ میں فائنل میں ٹرپ پر گیا تھا۔۔۔۔۔اور نہ ہی اب کلاس میں میری اس طرح سے موجودگی کا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔۔


لیکن کب تک۔۔۔۔۔۔بورنگ مدثر کسی کو بھی پسند نہیں تھا۔۔۔۔۔اس کے کمرے والے ونگ میں انٹرنیٹ کی سپیڈ اچھی آیا کرتی تھی۔۔۔۔سبھی اپنے اپنے لیپ ٹاپ اٹھا کر اس کے کمرے میں چلے آتے۔۔۔۔۔فیس بک پہ چیٹ کرتے۔۔۔۔۔یوٹیوب پہ ویڈیوز دیکھتے۔۔۔۔۔ٹورنٹ پہ موویز ڈاؤن لوڈ کرتے۔۔۔۔۔۔گپیں مارتے۔۔۔۔۔اور مدثر پاس میں چپ چاپ لیٹا ہوتا۔۔۔۔۔۔پھر وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر سب کی شکلیں دیکھتا۔۔۔۔۔شور سے اسے وحشت ہوتی تھی۔۔۔۔۔انہیں ہنستے دیکھ کر اسکے اندر کا خالی پن اور بڑھ جاتا تھا۔۔۔۔۔پھر وہ اٹھتا اور خاموشی سے کمرے سے نکل کر کوئی اندھیرا کونا ڈھونڈتا۔۔۔۔سب کو تفریح چاہئے تھی۔۔۔۔نیشنل فارمیسی کونسل کے ڈنر پہ بھی اس سے پرفارم کرنے کو کہا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔انسان خود ہی اپنا آپ سنبھالتا ہے۔۔۔۔۔اداس چہرے شائد ہمیں اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔۔اسکی ایک وجہ شائد یہ بھی ہے کہ سامنے والے اداس چہرے میں ہمیں اپنے اندر کی وحشت نظر آتی ہے۔۔۔۔۔اس نے پھر سے ہنسنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔پھر سے ہنسانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔اس کے قہقہے پہلے سے بھی بلند ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔یہی زندگی ہے۔۔۔۔۔انسان کو وقت کے ساتھ روپ بدلنا پڑتا ہے۔۔۔۔کتنے ہی خول وہ اپنے ساتھ اٹھائے پھرتا ہے کہ نجانے کب کس کی ضرورت پڑ جائے۔۔۔۔۔اس نے بھی یہی کیا تھا۔۔۔۔۔وہ بھی باقی سب انسانوں کی طرح کا ایک بہروپیا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔


میں روپ بہروپ کا عادی ہوں، اور روپ بدلتا رہتا ہوں

ذات پہ اپنی رنگ برنگے خول چڑھائے پھرتا ہوں


کیا ہوں، اور کون ہوں میں یہ بھی مجھے اب یاد نہیں

آئینہ جب میں دیکھتا ہوں، خود کو ہی اجنبی لگتا ہوں


میں سنگدل ہوں یا بےحس ہوں، یہ بات مجھے معلوم نہیں

رونے کو جب جی کرتا ہے، خود اپنے حال پہ ہنستا ہوں


یہ دھن دولت، یہ مال و زر، ان کی مجھے کچھ ہوس نہیں

اک مسکان مجھے تم دے دینا، مہنگا نہیں میں سستا ہوں


جب پرندے گھر کو لوٹتے ہیں، جب خاموشی چھانے لگتی ہے

جب سورج تھک کر ڈھلتا ہے، اس لمحے میں بھی ڈھلتا ہوں


میں عقل و شعور سے عاری ہوں، میں دیوانہ میں مجنوں ہوں

دنیا کو ایسا کہنے دو، میں تم کو کیسا لگتا ہوں


بہت ٹھہر لیا اس نگری میں، اب ڈھونڈو مسکن اور کہیں

لو رخت سفر اب باندھ لیا، اچھا اب میں چلتا ہوں


مجھے شائد یہ حصہ نہیں لکھنا چاہئے تھا۔۔۔۔۔دکھ تازہ کرنے والی بات ہے۔۔۔۔۔جو اس وقت روئے تھے وہ اب پھر روئیں گے۔۔۔۔۔اپنی کمزوری سب کو بتانے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔لیکن لکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔کوئی خودنمائی نہیں۔۔۔۔۔کوئی دلاسے یا حوصلے کی طلب نہیں۔۔۔۔۔معذرت کہ مجھے یہ لکھنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہنوز دلی دور است

ڈئیر ڈائری!

لیلیٰ مجنوں